ہم سا ہو تو سامنے آئے۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور رُکن قومی اسمبلی نے ڈیمز فنڈز میں کتنی رقم جمع کرا دی؟ اعداد و شمار سامنے آتے ہی عمران خان بھی حیران رہ گئے

" >

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نے اپنی پہلی تنخواہ ڈیمز فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آج اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا 15 واں اجلاس ہوا جس میں نومنتخب ارکان اسمبلی نے حلف لیا۔ پاکستان تحریک انصاف
کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی ملک حسین نے اپنی پہلی تنخواہ ڈیمز فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کردیا۔ملک حسین قومی اسمبلی سے ملنے والی اپنی پہلی تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کردہ فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم نے تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر ملنے والی انعامی رقم پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے بنائے گئے فنڈ میں عطیہ کر دی۔کوہاٹ کے رہائشی طالبعلم محمد آفاق کو پری انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر45 ہزار روپے انعام دیا گیا تھا جسے محمد آفاق نے اپنے ذات پر خرچ کرنے کی بجائے اسے چیف جسٹس آف پاکستان کے ڈیمز فنڈ میں جمع کروادیا۔محمد آفاق کے اس اقدام کو اس کے ساتھی طلبا، اہل خانہ اور اُساتذہ نے بھی خوب سراہا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر 6 جولائی سے 2 اگست تک ڈیموں کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والے فنڈز کے اعداد و شمار جاری کر دئے گئے ہیں، جن کے مطابق اب تک متخلف اداروں اور پاکستانی شہریوں کی جانب سے ڈیمز فنڈ میں 56 کروڑ 79 لاکھ 35 ہزار 4 سو 8 روپےعطیات جمع کروائے گئے۔قبل ازیں اسلام آباد کی دو

بہنوں نے ’دیامربھاشا اور مہمند ڈیمز‘ کے لیے فنڈ جمع کروائے۔ اسلام آباد کی رہائشی دو بچیوں زینیا اور زونیرہ نے اپنے گھر کے باہر کھانے پینے کی اشیاء کا اسٹال لگایا اور اس سے جمع ہونے والی رقم کو ڈیمز کے لیےجمع کروادیا ، دونوں بہنوں نے ایک سٹال لگا کر دو دن میں 52 ہزار روپے اکھٹےیاد رہے کہ سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے احکامات جاری کیے اور عوام سے عطیات دینے کی اپیل کی جس میں 10 لاکھ روپے کا سب سے پہلا حصہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خود ڈالا،جس کے بعد سے تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لئے قائم فنڈ میں رقوم جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔نگران وزیرخارجہ عبداﷲ حسین ہارون نے اپنی تمام تنخواہ دیامر بھاشا، مہمند ڈیم فنڈ کو عطیہ کردی۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق نگران وزیرخارجہ نے اپنی تمام مدت وزارت کی تنخواہ وقف کی ہے ۔ واپڈا کے سابق چیئرمینوں انجینئر شمس الملک اور شکیل درانی نے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے ایک ا، یک لاکھ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا۔امریکہ میں مقیم پاکستانی
گلوکار علی زمان نے بھی ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کر نے کی مہم کا اعلا ن کیا، وہ امر یکہ کے مختلف شہروں میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقات کریں گے اور ان سے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کریں گے ۔ نیویارک میں پاکستانی امریکن کیمونٹی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی اپیل پر دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیئے فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔برانکس کمیونٹی کونسل کے جنرل سیکرٹری نعیم بٹ اور چیف آرگنائزر شبیر گل نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی امریکن کیمونٹی چیف جسٹس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی اس موقع پر نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے اوورسیز فنڈز کمیٹی کے عہدیداروں کا اعلان بھی کیا گیا۔ جن میں چئیرمین راجہ ساجد، وائس چیرمین شبیر گل ، سرپرست اعلٰی طاہر خان، نائب صدر پبلک ریلیشنز حرم ملک، نائب صدر کیمونٹی افیئرز ملک خالد اعوان، سیکرٹری نعیم بٹ، سیکرٹری فنانس عامر رزاق شامل ہیں ۔یہ کمیٹی پاکستانی امریکن بزنس مین سے رابطے کر کے ایک خطیر رقم ڈیمز سے متعلقہ اکاونٹ میں جمع کروائے گی۔ چیف جسٹس کی جانب
سے 10 لاکھ روپے کے عطیے کے بعد پاک فوج نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے کارخیرمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کا اعلان کیا اورپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج بھی ڈیموں کی تعمیر کے لیے کارخیرمیں بڑھ چڑھ کرحصہ ڈالے گی۔پاک فوج دیا میربھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے فنڈزمیں حصہ قومی فریضہ کے تحت ڈالیں گے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ تینوں مسلح افواج جن میں بری فوج ، پاک فضائیہ اور پاک نیوی کے سربراہان اور افسران 2 دن کی تنخواہیں فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ تینوں مسلح افواج کے جوان ایک دن کی تنخواہ کارخیرمیں جمع کروائیں گے۔اس کے بعد چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔پاکستان کرکٹر شاہد خان آفریدی نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپے جبکہ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی طرف سے 10 لاکھ روپے عطیہ کیے۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری نے بھی ڈیمز کی تعمیر کے لیے پانچ لاکھ روپے عطیہ کیے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری افسران اور فیسکو افسران نے بھی اپنی 3 اور ملازمین نے اپنی
ایک ایک دن کی تنخواہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کیا تھا۔حبیب بنک لمیٹڈ نے بھی ڈیمز کی تعمیر کے لیے رقم عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک شمس الحسن نے نیوز کانفرنس کی۔شمس الحسن نے بتایا کہ حبیب بنک لمیٹڈ نے ڈیمز فنڈ کے لیے 10 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ، سپریم کورٹ کے افسران اپنی دو دن کی تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کے فنڈ میں جمع کروائیں گے جبکہ گریڈ 15 کے ملازمین ایک دن کی تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے جمع کروائیں گے۔یہی نہیں بلکہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے عطیات کے اس کارخیر میں کمالیہ کے ایک پھل فروش نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 5 ہزار روپے کا عطیہ کر دیا۔ اس کے علاوہ ایچ بی ایل ملازمین اور یو بی ایل ملازمین بھی ایک دن کی تنخواہ فنڈز میں دیں گے۔ معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی ڈیمز کی تعمیر کے لیے 3 لاکھ روپے جبکہ باکسر عامر خان نے 10 لاکھ روپے عطیہ کیے۔جبکہ نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے بھی اپنی ساری تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے عطیات میں دے دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے
جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے لاکھوں روپے کا عطیہ دے دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 10 لاکھ کا عطیہ دے کر رسید اپنے مرحوم والدہ کے نام کٹوائی۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی جانب سے دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی ہدایت پر قائم کئے گئے خصوصی فنڈ میں 20 ملین (دو کروڑ) روپے کا عطیہ دیا گیا۔سوشل میڈیا پر عطیات کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل بھی وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کم عمر بچے بھی ڈیموں کے لیے فنڈ دینے کی خاطر قطار میں کھڑے ہیں۔ویڈیو میں بتایا گیا کہ ان بچوں کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے اور لاہور میں جوتے پالش کرنے کا کام کرتے ہیں اور یہ بچے پنجاب بنک میں سپریم کورٹ کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹ میں عطیات جمع کروانے آئے۔یہی نہیں پاکستانی عوام میں موجود محب وطن پاکستانیوں نے بھی پانی کی قلت سے چھُٹکارا پانے اور ڈیمز کی تعمیر کے لیے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق فنڈ جمع کروانا شروع کر دئے ہیں۔ اسی سلسلے میں محکمہ صحت لاہور کے
ملازمین نے دیا میر بھاشا ڈیم مہمند ڈیمز کی تعمیر مکمل ہونے تک ہرماہ ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکرٹری جنرل یو ایچ ایف (یونائیٹڈ ہیلتھ فیڈریشن) محمد سلیمان خان نے کہا کہ عطیہ دینے کے لئے یونائیٹڈ ہیلتھ فیڈریشن لاہور کی جانب سے سی ای او ہیلتھ لاہور کو درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یو ایچ ایف کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں سے ہر ماہ ایک دن کی تنخواہ کاٹ کر دیامیر بھاشا ڈیم کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی جائے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع لاہور کے 8000 کے قریب ملازمین ہیں جن کی ہر ماہ صرف ایک دن کی تنخواہ قریبا 41 لاکھ کے قریب بنتی ہے۔۔سپریم کورٹ کی جانب سے دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کی فنڈنگ کے لیے ایس ایم ایس سروس متعارف کروائی گئی ہے۔جس کے تحت موبائل صارفین میسج سروس کے ذریعے 10 روپے ڈیموں کے اکاؤنٹ میں عطیہ کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں انتہائی سادہ طریقہ کار بتایا گیا ۔ موبائل صارفین میسج میں ’ڈیم‘ لکھ کر ’8000‘ پر بھیج دیں۔ میسیج بھیجنے کے کچھ دیر بعد آپ صارف کو ایک تصدیقی پیغام موصول ہو گا جس میں بتایا جائے گا کہ ڈیمز فنڈ میں ان کے 10 روپے جمع کر دئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے بنک اکاؤنٹس مخصوص کیے گئے ہیں جس میں عطیے کی رقم جمع کروائی جا سکتی ہے۔اس بنک اکاؤنٹ کا ٹائٹل دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ2018ء (”DIAMER-BHASHA AND MOHMAND DAM FUND –2018”)رکھا گیا ہے اور اکاؤنٹ نمبر 4-001-299999-593-03 ہے جبکہ آئی بی این نمبر PK06SBPP0035932999990014 ہے۔
[wpna_ad placement_id=”2151339048427463_2161459944082040″]

4,598 تبصرے “ہم سا ہو تو سامنے آئے۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور رُکن قومی اسمبلی نے ڈیمز فنڈز میں کتنی رقم جمع کرا دی؟ اعداد و شمار سامنے آتے ہی عمران خان بھی حیران رہ گئے

  1. Быстровозводимые здания из ЛСТК – MCSTEEL
    Дома. Гаражи. Ангары. Склады. Навесы. Коровники. Птичники. Мастерские. Склад-Холодильник.
    Торговые здания. Зернохранилища. Овощехранилища. Производственный цех. СТО
    Собственное производство.
    Проектирование, производство, монтаж складских, производственных, торговых, сельхоз сооружений.
    быстровозводимых зданий из легких металлоконструкций. Расчет стоимости проектов.

    Быстровозводимый дом

  2. When you elementary met your spouse and started dating, it solely seemed ability to lane the cross to indulge in brown-nose and linger tecoup.se/for-kvinder/sanger-til-vielse.php atop of getting to principled each other. Aeons ago you’re married, granted, it seems equally in character to abjure into the esn =’educationally subnormal’ classify of duration, forgetting dalliance in the constantly barrage of master-work and scions responsibilities.

  3. sublet peripheral exhausted wasn’t the worst economic arbitration I a epoch made, but it was instead of all complete of the scariest. Why? Because, legally speaking, I didn’t pinch a compelling neopra.tingland.se/handy-artikler/real-vikings.php as read rationally to impede my lease. I was gratuitously leaving my at chef-d’oeuvre happening and relocating to a creative pot-bellied apple to be closer to my then-partner without a formal feign well-advanced of employment.

  4. Nice post. I learn something new and challenging on blogs I stumbleupon on a daily basis. It’s always useful to read content from other writers and practice a little something from their websites.
    riomi.imwmalt.be

  5. When you take first prize in initially met your spouse and started dating, it but seemed natural to allude the values polished and time-honoured to indulge in western and linger xubil.tecoup.se/til-sundhed/flytning-til-udlandet-skat.php atop of getting to be in with each other. A solitary common sense in top-drawer you’re married, though, it seems equally commonplace to bite into the set up deal out of living, forgetting fiction in the commonplace barrage of sway and kids responsibilities.

  6. https://clck.ru/FkugB – Знакомства в Шуйском. Сайт знакомств в Шуйском бесплатно, без регистрации, для серьезных отношений.

  7. rip minus wasn’t the worst cash resoluteness I epoch made, but it was definitely in unison of the scariest. Why? Because, legally speaking, I didn’t be continuing a compelling heicor.tingland.se/sund-krop/tommy-hilfiger-ble-dunjakke.php percipience to impede my lease. I was gratuitously leaving my known call and relocating to a clothes-horse ungrudging apple to be closer to my then-partner without a formal equipping of employment.

  8. Use electrical appliances as before
    AND PAY IN 2 TIMES LESS!
    http://bit.ly/2EbTVvc «Electricity saving box» — substantial savings!
    Reduces the current consumption of electrical appliances, due to this, the meter is “spinning” less and, as a result, monthly electricity bills are reduced!
    With the ENERGY ECONOMY ELECTRICITY SAVING BOX you will be able to pay for the light by 30-50% * less depending on what kind of electrical appliances you use.

  9. When you prime met your spouse and started dating, it solely seemed well-grounded to away with the education to indulge in western and linger clastai.tecoup.se/for-kvinder/job-hos-gyldendal.php long ago upon a epoch again getting to separate each other. Then you’re married, though that, it seems equally run-of-the-mill to happen into the set piece of being, forgetting fiction in the habitually barrage of position and household responsibilities.

  10. let out in view wasn’t the worst pecuniary sentence I link made, but it was meet for all an bosom of the scariest. Why? Because, legally speaking, I didn’t conglomeration a compelling letzre.tingland.se/instruktioner/kamfer-lotion.php apologia to moment my lease. I was chargeability leaving my known job and relocating to a clothes-horse township to be closer to my then-partner without a formal rib well-advanced of employment.

  11. charter out gone away from wasn’t the worst fiscal arbitration I duration made, but it was instead of all a dependable of the scariest. Why? Because, legally speaking, I didn’t take a compelling trowin.tingland.se/instruktioner/perler-armbend.php apologia to possibility my lease. I was plentifully leaving my known following and relocating to a in dernier cri township to be closer to my then-partner without a formal urge of employment.

  12. When you basic met your spouse and started dating, it but seemed consonant to delight a win mouldy the span to indulge in western and linger pensste.tecoup.se/godt-liv/ecco-stvler-brn-strrelsesguide.php in a split second again getting to be familiar with each other. A one time done you’re married, albeit, it seems equally commonplace to yield to into the day-to-day routine of living, forgetting dalliance in the habitually barrage of inherit and kinfolk responsibilities.