“روسی میزائل کبھی بھی کسی بھی یورپی ملک کو نشانہ بنا سکتے ہیں”۔۔۔ نیٹو ممالک کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا۔ لیکن کیوں؟ جانیے

واسنگٹن (دیب ڈیسک )شمالی اوقیانوس کے ممالک کا اتحاد “نیٹو” بھڑکتی ہوئی سائبر وار میں داخل ہو گیا ہے۔ نیٹو نے روس کو خبردار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سائبر حملوں کے حوالے سے ماسکو کی غیر ذمّے دارانہ کارروائیوں کے خلاف اتحاد کا دفاع مضبوط بنایا جائے گا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے نے نیٹو حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کی جانب سے نئے میزائل سسٹم کی تیاری کر چکا ہے ۔ جبکہ سوویت یونین درمیانی مار رکھنے والے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سمجھوتے کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہوا ہے۔ نیٹو کا یہ یہ موقف روسی عسکری انٹیلی جنس سے منسوب ہیکنگ کی کارروائیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ قبل ازیں ہالیڈو اور برطانیہ کے اداروں نے بعض سائبر حملوں کو ناکام بنا دیا تھا جن میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کو ہدف بنایا گیا۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ “کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کے خلاف حال ہی میں سامنے آنے والا روسی عسکری انٹیلی جنس کا سائبر حملہ ، ماسکو کے غیر ذمّے دارانہ افعال اور برتاؤ کے سلسلے کی کڑی ہے”۔ میٹس کے مطابق مذکورہ سائبر حملہ رواں سال اپریل میں یعنی لندن میں روسی ایجنٹ اور اس کی بیٹی کو زہریلے مواد سے نشانہ بنانے کے ایک ماہ بعد، عمل میں آیا تھا۔ نیٹو سیکرٹر ی جنرل ینس اسٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ نیٹو حکام نمایاں پیش رفت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

روس کی جانب سے دفاعی تنصیبات پر سائبر حملے عالمی امن کے لئے خطر ہ محسوس کئے جارہے ہیں ۔ نیٹو سمیت دیگر ممالک بھی اس کی بیخ کنی کیلئے منصوبہ سازی میں مصروف ہیں ، گذشتہ دنوں ہونے والا نیٹو ممالک کا اجلاس بھی اس حوالے سے اہم ہے۔اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نیٹو سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کی جانب سے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک سائبر آپریشنز کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے اور اس میدان میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کا متفقہ موقف ہے کہ روس کا جدید Novator 9M729 میزائل سسٹم درمیانی مار رکھنے والے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سمجھوتے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ روس کے جدید میزائل 500 سے 5500 کلو میٹر تک کا فاصلہ طر کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان میزائلوں کے ذریعے پورے یورپ میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت بھی روس سے جدید ترین طیارہ شکن نظام خریدنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے امکان ہے کہ آج دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں