31

سعودی شہزادہ ولید بن طلال رہا۔۔۔۔ لیکن کرپشن کے الزام میں پکڑے گئے ان کے بھائی کہاں اور کس حال میں ہیں؟

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے کرپشن کے خلاف مہم پر تنقید کرنے کے الزام میں گرفتار شہزادہ خالد بن طلال کو بالاخرتقریباً ایک سال بعد رہا کردیا ہے، اس سے قبل ولید بن طلال کو مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیاتھا جسے بعدازاں سعودی انتظامیہ نے رہا کردیاتھا۔ یادرہے کہ،

یہ رہائی ایسے موقع پر عمل میں لائی گئی جب استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی کے قتل کی وجہ سے سعودی عرب کو سفارتی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق سعودی حکام نے شہزادہ خالد بند طلال کو 11 ماہ قبل اس وقت حراست میں لیا تھا جب انہوں نے کرپشن کے الزام میں کی جانے والی سینکڑوں گرفتاریوں پر تنقید کی تھی۔شہزادہ خالد بن طلال کے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن سے آشکار ہورہا ہے کہ وہ اب سعودی حکام کی جانب سے قید میں نہیں ہیں۔ریمابنت طلال کی طرف سے جاری اس تصویر میں دیکھاجاسکتاہے کہ خالد بن طلال اپنے بیٹے کو چوم رہے ہیں اور دعائیں دے رہے ہیں جو گزشتہ ایک سال سے قومہ میں ہے۔خالد بن طلال کی بھتیجی ریم الولید نے خوشی اور شکر کا اظہار کیا اور رشتہ داروں کے ہمراہ رہائی پانیوالے شہزادہ کی مزید تصاویر شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ

’’آپ کی حفاظت پر اللہ کا شکر‘‘خالد بن طلال اس وقت کے سعودی حکمران شاہ سلمان کے بھتیجے ہیں اور وہ رٹز کارلٹن ہوٹل میں زیرحراست تھے۔ ان کے ہمراہ ان کے بھائی شہزادہ الولید بن طلال کو بھی کرپشن کے خلاف جاری مہم میں درجنوں شہزادوں اور دیگر اہم شخصیات کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا تاہم ابتدائی طورپر حکومت کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں