30

نواز شریف اور عمران خان کے ادوار حکومت میں کیا فرق ہے ؟ چین والے عمران خان کے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں ؟ ٹائیگروں کے کام کی خبر آگئی

” >
لاہور (ویب ڈیسک) خدا کرے میرا خیال غلط ثابت ہو مگر لگتا یہ ہے کہ جس طرح میاں نواز شریف کی حکومت نے عمران خان کو بھگتا تھا‘ اب عمران خان کو مولانا خادم رضوی کو بھگتانا پڑے گا۔ دھرنا دینے والوں کو اب پتا چلے گا کہ دھرنا دینے اور بھگتانے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ عمران خان نے بڑی دلیری والی دھواں دھار تقریر فرمائی اور پھر سارے ملک کو بند چھوڑ کر چائنا چلے گئے۔ چائنا والے بھی کیا کہتے ہوں گے؟ جب ہمارا صدر پاکستان گیا تھا تب اسلام آباد بند تھا اور اب پاکستانی وزیراعظم چائنا آیا ہے تب پیچھے پورا پاکستان بند پڑا ہوا ہے۔میں صبح ساڑھے سات بجے گھر سے روانہ ہوا۔ لاہور میں ایک دو ضروری کام تھے، مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ آج کے دن سفر نہیں کرنا چاہئے۔ ناشتہ میاں چنوں کیا۔ حالات نارمل تھے۔ ساہیوال تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ پہلا مسئلہ اوکاڑہ بائی پاس پر شروع ہوا۔ جہاں اس بائی پاس کے نیچے سے شہر سے آنے والی دیپال پور روڈ گزرتی ہے وہاں سے ہمیں بائی پاس سے نیچے اتار دیا گیا۔ یہ پہلا مقام تھا جہاں مجھے جی ٹی روڈ چھوڑنا پڑا۔ یہ جی ٹی روڈ بھی غلط العام ہے لیکن کیا کیا جائے۔ یہی چل رہا ہے۔ اصل جی ٹی روڈ پشاور تا سہسرام (کلکتہ) تک تھا‘ جو شیر شاہ سوری نے بنوایا۔ یہ دراصل ملتان لاہور روڈ یا این 5- ہے۔ بائی پاس سے نیچے اترے تو وہاں ٹریفک پھنسی ہوئی تھی۔

وجہ وہی افراتفری اور بے ترتیبی تھی ورنہ ٹریفک پھنسنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ تب میرا خیال تھا کہ شاید بائی پاس پر آگے کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سڑک بند ہو گئی ہے۔ خیر نیچے اتر کر شہر کی طرف جانا چاہا تو آگے کھڑے پولیس والے نے دوسری طرف جانے کا اشارہ کر دیا۔ میں نے گاڑی موڑی اور ادھر چل پڑا۔ ابھی ایک یا دو کلو میٹر ہی گیا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی ملتان کا صدر اور میرا پرانا دوست اعجاز جنجوعہ تھا۔ پوچھنے لگا: آپ ادھر دیپال پور کیا کرنے جا رہے ہیں؟ میں نے پوچھا: تم کہاں ہو؟ کہنے لگا: آپ کی طرح غلط جا رہا تھا‘ سات آٹھ کلو میٹر جانے کے بعد واپس آ رہا ہوں‘ ابھی آپ کو کراس کیا ہے۔ میں نے کہا: میں تو لاہور جا رہا ہوں۔ اعجاز کہنے لگا: تو واپس جائیں اور کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔میں اوکاڑہ شہر کی طرف چل پڑا۔ وہاں سے پرانی سڑک پر دوبارہ ملتان روڈ کی طرف جانے لگا تو نئے فلائی اوور کے نیچے کھڑے ٹریفک وارڈن نے کہا کہ بائیں سڑک بند ہے‘ دائیں پر چلے جائیں اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں سے محتاط رہیں۔

شہر کے اندر سے گزرنے والی مین روڈ کا برا حال تھا اور گاڑی چلانا مشکل۔ خیر بائی پاس کے اختتام پر سڑک کھلی تھی اور میں دوبارہ ملتان روڈ پر چڑھ گیا۔ رینالہ خورد تک معاملہ ٹھیک رہا۔ رینالہ خورد بائی پاس کے اختتام پر جہاں کسی زمانے میں اس سڑک پر لگنے والے اوّلین سی این جی سٹیشنز میں سے ایک راؤ ذکا سی این جی ہوتا تھا‘ پولیس کی بڑی تعداد کھڑی تھی۔ میری بیٹی انہیں دیکھ کر متعجب ہوئی اور کہنے لگی :خیر ہے اتنی پولیس کھڑی ہے؟ مجھے خود سمجھ نہ آئی کہ آخر اس جگہ اتنی پولیس کیوں کھڑی ہے؟ پل جوڑیاں اور حبیب آباد تک خیریت رہی۔ حبیب آباد گزرتے ہی سڑک بند تھی۔ ٹریفک اہلکار اور پولیس والے نیشنل ہائی وے پر چلنے والی ساری ٹریفک کو دائیں طرف حبیب آباد چونیاں روڈ کی طرف موڑ رہے تھے ،اب میرا ماتھا ٹھنکا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ معاملہ کچھ زیادہ گڑ بڑ ہے۔ یاد آیا کہ آج تو آسیہ مسیح والے کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ایک دوست کا فون آیا اور اس نے تصدیق کر دی کہ سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح والے کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے اور اسے بری کر دیا گیا ہے۔ سب کو علم تھا کہ ایسا فیصلہ آیا تو کیا ہوگا لیکن دھرنے دینے کی عادی حکومت کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہوگا۔

سڑک کہیں تھی اور کہیں غائب۔ کچھ پتا نہیں تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کس طرف جا کر نکلیں گے۔ جس طرف سب جا رہے تھے میں بھی اسی طرف جا رہا تھا۔ بیٹی کو کہا کہ گوگل میپ پر دیکھے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ انٹرنیٹ کے سگنل نہیں آ رہے۔ دعا تھی کہ کہیں کوئی گاڑی پھنس نہ جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید گھنٹوں کے لیے اسی جگہ کھڑا ہونا پڑے گا۔ دونوں طرف کئی فٹ نیچے گہرائی میں کھیت تھے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ کافی آگے گئے تو ایک قصبہ آیا۔ نظام پور چک نمبر2۔ اس کے بعد بلوکی سلیمانکی لنک کینال کو پرانے اور خستہ پل کے ذریعے پار کیا۔ یہ بہت بڑی نہر ہے اور دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے نکال کر اس کا پانی سلیمانکی کے مقام پر ستلج میں ڈالا جاتا تھا جو سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت نے بند کر رکھا ہے۔ دریائے ستلج کے کنارے واقع زمینوں کو کاشتکاری کے لیے جو پانی ملتا ہے‘ وہ دریائے ستلج کا اپنا نہیں۔ دریائے راوی سے دو نہریں نکال کر پانی وہاں سے دریائے ستلج میں ڈالا جاتا ہے۔ ایک یہی بلوکی سلیمانکی لنک کینال اور دوسری ہیڈ سدھنائی سے نکلنے والی سدھنائی میلسی لنک کینال ہے‘ جو ہیڈ اسلام کو پانی پہنچاتی ہے۔

اب بھلا دریائے راوی سے نکلنے والی ان دونوں نہروں میں پانی ہونا بجائے خود تعجب کی بات ہے کہ خود دریائے راوی بھی سندھ طاس معاہدے کی بدولت اسی صورتحال کا شکار ہے جس کا دریائے ستلج۔ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر آنے والا پانی دراصل دریائے چناب سے قادر آباد ہیڈ ورکس سے نکلنے والی بڑی نہر قادر آباد بلوکی لنک کینال سے آتا ہے اور دریائے راوی میں سدھنائی ہیڈ ورکس پر آنے والا پانی تریموں ہیڈ ورکس دریائے چناب سے نکلنے والی حویلی کینال کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔آگے ہر چوکی نام کا قصبہ تھا۔ پھر میاں والا گھاٹ اور پھر چھانگا مانگا۔ وہاں سے بھوئے آصل کے پاس سے گزر کر کوٹ رادھا کشن پہنچا۔ وہاں سے آگے سڑک پھر بند تھی۔ پولیس والوں نے ایک کچی پکی سڑک پر ڈال دیا۔ یہ سڑک کلارک آباد کے اندر سے گزرتی ہوئی دوبارہ پتوکی رائے ونڈ بائی پاس پر چڑھ گئی۔ پریم نگر سے ہو کر میں رائے ونڈ پہنچ گیا۔ یہاں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے باعث مخلوق کو گزرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی‘ اوپر سے ہر طرف راستہ بند تھا۔ قریب ڈیڑھ گھنٹہ تو صرف رائے ونڈ سے نکلنے میں لگ گیا۔ اب سارا سفر ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ تھا۔ کاہنا فلائی اوور سے گزر کر ویلنشیا سے ہوتے ہوئے ہم بالآخر لاہور پہنچ گئے۔

صبح ساڑھے سات بجے شروع ہونے والا پانچ گھنٹوں کا یہ سفر شام ساڑھے پانچ بجے یعنی دس گھنٹے میں ختم ہوا۔ سب دوستوں نے خیر خیریت سے پہنچنے پر مبارک دی۔ لاہور سارا بند تھا اور کوئی کام نہ ہو سکا۔ جمعرات کا دن قادر کے ساتھ گزر گیا۔ کسی نے مشورہ دیا رات کو دیر سے نکلو‘ راستہ کھلا ہوگا۔ رات تین بجے کا الارم لگایا اور سو گیا۔ تین بجے موٹروے اینڈ ہائی وے کی انکوائری پر فون کر کے پوچھا کہ لاہور سے ملتان جانے کی کیا صورتحال ہے؟ جواب ملا: لاہور تا مانگا منڈی سڑک مکمل بند ہے۔ صبح پانچ بجے دوبارہ فون کیا۔ صورتحال یہی تھی۔ کسی نے بتایا کہ لاہور سے رائے ونڈ اور وہاں سے پتوکی راستہ کھلا ہے مگر رات کو بالکل رسک نہ لینا۔ رات کو ڈکیتی وغیرہ عام ہے۔ سو صبح سفر کا آغاز کیا۔ نہر کے کنارے والی سڑک پر ڈیفنس روڈ والے پل پر پہنچا تو آگے سڑک بند تھی۔ اس کے بعد پھر وہی سب کچھ جس سے گزر کر لاہور پہنچا تھا؛ تاہم زیادہ مشکل چھانگا مانگا کے بعد سے لیکر کوٹ رادھا کشن تک تھی۔ آگے راستہ نسبتاً ٹھیک تھا۔ پتوکی کے بعد دوبارہ نیشنل ہائی وے

پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد سب ٹھیک تھا۔ تاہم تین خبریں اس دوران بڑی حوصلہ افزا تھیں۔ پہلی پنجاب پولیس کی وارننگ تھی کہ ”کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں‘‘ دوسری خبر اپنے شہریار آفریدی کا بیان تھا کہ ”اگر توڑ پھوڑ کی یا سڑکوں کو بلاک کیا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا‘‘ اور تیسری سب سے زور دار خبر اپنے فواد چودھری کا بیان تھا کہ ”ملک بھر میں حالات پوری طرح کنٹرول میں ہیں‘‘ اور ہاں آخر میں ایک اور بات یاد آ گئی۔ ساہیوال بائی پاس پر، جہاں مکمل امن و امان تھا رینجرز کے چاک و چوبند جوان گشت کر رہے تھے جبکہ لاہور اور مانگا منڈی کے درمیان احتجاج کرنے والے ڈنڈے لے کر گھوم رہے تھے۔ فریقین نے ایک دوسرے کے علاقے میں دخل اندازی نہیں کی۔ معاہدہ ہو گیا۔ دھرنا ختم ہوا۔ الحمد للہ۔ لیکن یہ سوال ابھی تشنہ ہے کہ فیض آباد کے دھرنے والوں کو تو خرچے کی رقم مل گئی تھی، ان تین دنوں میں جن لوگوں کا مالی نقصان ہوا ہے ان کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ کیا ریاست صرف ڈنڈے والوں کا مالی نقصان پورا کرنے کی ذمہ دار ہے؟۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں