15

عمران حکومت کا اینٹوں کے بھٹے بند کرنے کا فیصلہ: جان کی امان پاؤں تو عرض کرو ں سموگ ان بھٹوں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ۔۔۔۔۔۔ نوجوان صحافی نے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے احکامات صادر کرنے والوں کی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی

” >
لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے چین میں جو تقریریں کی ہیں وہ واقعی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں کہ بھلا مہذب اقوام کے محب وطن رہ نما دوسرے ملکوں میں جا کے اپنے پیٹ سے کپڑا کب اٹھاتے ہیں، اپنے گندے کپڑے غیروں میں کب دھوتے ہیں ،اس تبدیلی پر واہ واہ کی جا رہی ہے۔

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم نے چین میں مختلف فورموں پر تقریریں کرتے ہوئے جو کچھ کہااس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے ملک میں بہت کرپشن ہے، حکومتی سطح پر بدانتظامی کا سامنا ہے، اربوں روپوں کی منی لانڈرنگ ہو جاتی ہے، کام چوری ہے، تجارتی خسارہ ہے اور ملک کی سیاسی اشرافیہ کرپٹ ہے۔ انہوں نے یہی باتیں کرتے ہوئے چین کے سرمایہ کاروں سے درخواست کی کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور میں سوچ رہا ہوں کہ کیا کوئی صنعتکارہمارے ملک کے مقرر کردہ چیف ایگزیکٹو کے بولے اس ’سچ‘ کے بعد اپنے پیسے اس ملک میں ڈبونے کے لئے لا سکتا ہے، شہباز شریف بند ہے اور نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر بند کرنے کے اشارے مل رہے ہیں ۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور اپنے حکمرانوں کی دانش اور منطق کو نہیں پا سکتا ۔ ایک طویل عرصے سے بند کر دینا کسی بھی مسئلے کا سب سے آسان حل رہا ہے، زبان بند کر دو ،فون بند کر دو ،انٹرنیٹ بند کر دو ، ڈبل سواری بند کر دو ،لیڈر بند کر دو اور دوسروں کی عزت بند کر دو ، یہ سب سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں کہ اس کے ذریعے حکمران اپنے بہت سارے مسائل کو حل کر لیتے ہیں

مگر اب تازہ ترین صورتحال یہ بنی ہے کہ سموگ کی وجہ سے اینٹوں کے بھٹے بند کر دینے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ سموگ واقعی ایک بڑا مسئلہ بنتی چلی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ماحول اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمارے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور اور ملحقہ علاقوں میں سموگ کی بڑی وجہ ہم سے چند کلومیٹر دور بھارت کے وہ علاقے ہیں جہاں ماحولیاتی آلودگی بارے کسی بھی احتیاطی تدبیر پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بھارت دلی سے امرتسر تک اس زہریلی دھند کا شکار ہوتا ہے اور موجودہ حکومت نے سموگ سے بچنے کے لئے حکم جاری کیا ہے کہ اینٹوں کے تمام بھٹےبند دئیے جائیں۔ اس حکم میں غلطی سے ان علاقوں کے بھٹے بھی شامل ہیں جہاں سموگ نہیں ہوتی۔ بھٹہ مالکان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی پر منتقل ہوجائیں جس کے بعد بھٹے کی چمنی سے گاڑھے سیاہکےبجائے سفید دھواں برآمد ہوجو ایک درست حکمت عملی ہے۔پنجاب میں اس وقت گیارہ ہزار کے لگ بھگ بھٹے ہیں جن پر لاکھوں مزدور اپنے خاندانوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔اینٹیں بنانے والے یہ مزدور اپنی مزدوری پیشگی وصول کر لیتے ہیں اور پھر وہاں معاہدے کے تحت کام کرتے ہیں


جس کی تشریح ہمارے بعض دوست’ بیگار‘ کے طور پر کرتے ہیں اور اکثر اوقات اس کے ذریعے بڑی بڑی خبریں بھی بنائی جاتی ہیں۔ بیس اکتوبر سے اکتیس دسمبر تک بھٹے بند رکھنے کا حکم یکم اکتوبر کو ہی جاری کر دیا گیا تھااور جو بھٹے اس پر عمل نہیں کررہے ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ مجھے نہیں علم کہ سیاست اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے فیصلہ سازوں نے یہ حکم پورے پنجاب کے بھٹوں کے لئے کیوں جاری کر دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں صرف وہی مزدور بے روزگار نہیں ہو رہے جو بھٹوں پر کام کرتے ہیں بلکہ ان بھٹوں سے تو بے شمار روزگار جڑے ہوئے ہیں۔ جب آپ اینٹیں بنانا بند کر دیں گے تو لامحالہ وہ تمام کام رک جائیں گے جو تعمیرات کے زمرے میں آتے ہیں، گھروں سے پلازوں اورسڑکوں پر پلوں تک کی تعمیر رک جائے گی کیونکہ یہ اینٹ ہی ہوتی ہے جس پر گرے سٹرکچر کھڑا ہوتا ہے۔ بھٹے بند کرنے کے حکم پر مزدوروں کی بے روزگاری کے ساتھ ہی یہ نتیجہ بھی نکلا ہے کہ اینٹیںعدم دستیابی کی وجہ سے ایک سے دو ہزار روپے فی ہزار مہنگی ہوگئی ہیں اور چونکہ اینٹیں ذخیرہ کرنے کا کوئی رواج نہیں ہے اور امید کی جار ہی ہے کہ بھٹے بند رہنے کی صورت میں یہ ملنا بالکل بند ہوجائیں گی۔


ایک اینٹ کی تیاری اور ترسیل میں پندرہ سے اکیس دن لگ جاتے ہیں لہٰذا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عملی طور پر پابندی پندرہ جنوری تک رہے گی۔یہ کم و بیش دو ماہ سے زا ئدکا عرصہ بنتا ہے جس میں اینٹیں دستیاب نہیں ہوں گی۔ مجھے باقی اثرات پر بات کرنے سے پہلے اپنے ملک میں قیمتوں کے کنٹرول کے کمزور نظام کی وجہ سے خوف بھی ظاہر کرنا ہے کہ جب ایک دفعہ کم یابی یا عدم دستیابی کی وجہ سے اینٹیں بہت مہنگی ہوجائیں گی تو پھر ان کے فی ہزار نرخ کو واپس لانا بھی مشکل ترین ہوجائے گا یوں اس وقت تک کسی بھی گھر کی تعمیر میںگرے سٹرکچر کھڑا کرنے کو سب سے کم خرچ سمجھا جاتا ہے یعنی تھوڑے پیسوں میں پوری عمارت کھڑی نظر آنے لگتی ہے ، ماہرین کہتے ہیں کہ اصل خرچ’ فنشنگ‘ پر آتا ہے مگر اب اینٹیں مہنگی ہونے کے بعد لوئر مڈل کے بعد مڈل کلاس کے لئے بھی گھر کا ڈھانچہ کھڑا کرنا بھی ناممکن ہوجائے گا۔ آگے بڑھتے ہیں، جب اینٹیں ہی موجود نہیں ہوں گی تو ظاہر ہے کہ ٹھیکیدار بلڈنگ کیسے بنائے گا اور جب بلڈنگ نہیں بنے گی تو ریت، بجری اور سیمنٹ کی ضرورت بھی نہیں ہو گی یعنی اس سے متعلقہ تمام فیکٹریاں اور کاروبار بھی بند ہوجائیں گے۔

اس سارے سامان کی ترسیل ک

ے لئے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں چھوٹی بڑی گاڑیاں ( ٹرکوں سے لے کر گدھا گاڑیوں تک) استعمال ہوتی ہیں، وہ سب رک جائیں گی۔ بات یہاں تک رہتی تو بھی سمجھ آتی تھی مگر اس کے ساتھ ہی تمام پلمبر،الیکٹریشن، ویلڈر، کارپینٹراور بہت سارے دوسرے ہنر مند بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں گے۔ سینیٹری کے کارخانوں میں بھی کام رک جائے گا۔ بات صرف عوام تک نہیں رہے گی بلکہ جب ٹرک نہیں چلیں گے تو وہ ٹال ٹیکس بھی ادا نہیں کریں گے اور یوں بات حکومتی خزانے تک پہنچنے لگے گی۔ اینٹوں سے خوبصورت دیدہ زیب ٹائلوں تک ہر شعبے سے ٹیکس کی بلاواسطہ اور بالواسطہ وصولی بند ہوجائے گی کیونکہ تعمیراتی کام ہی بنیادی میٹریل کی عدم دستیابی کی وجہ ٹھپ پڑا ہو گا۔میں نے سول سیکرٹریٹ کے سامنے ان ہزاروں سرکاری ملازمین کو روتے ہوئے دیکھا ہے جنہیں تبدیلی سرکار نے آنے کے سو دن کے اندر ہی چھانٹی کی نذر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ میں نے پاپولیشن ڈپیارٹمنٹ میں کام کرتی ہوئی بیوہ عورتوں کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھے ہیں، میں نے دور دراز سے آئی خواتین کو اپنے شیر خوار بچوں کے ہمراہ اپنے گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور سول سیکرٹریٹ کے سامنے ننگی سڑک پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے تو میرا دل لرز اٹھا ہے۔


بڑی بڑی چاردیواریوں میں خود کو محفوظ سمجھنے والے حکمران اندازہ نہیں کر سکتے کہ ان کے دلوں میں کتنا زیادہ دھواں، کتنا بڑاطوفان بھرا ہے۔ حکومت نے پاپولیشن ڈپیارٹمنٹ میں ایک ایسا پراجیکٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں گریڈ ایک سے پانچ تک کی پوسٹوں پر ایم اے اور ایم ایس سی مرد اور عورتیں محض پندرہ ، بیس ہزار روپے ماہانہ سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے پیٹ کا جہنم پال رہے ہیں۔ میں اس امر سے انکا رنہیں کرتا کہ حکومت کی طرف سے بھٹے بند رکھنے کے احکام کے بعد سموگ میں کمی ہوسکتی ہے مگر سوچنا تو یہ ہے کہ یہ دھند اگر شہر کی سڑکوں سے غائب ہوگی تو کتنوں کے دلوں میں اتر جائے گی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے سموگ بہت بری لگتی ہے، بہت سارے دن ایسے گزرتے ہیں کہ سڑکوں پر نکلتے ہوئے کھانسی بھی آتی ہے اور آنکھوں میں جلن بھی ہوتی ہے مگر آنکھوں کی یہ جلن، آنسوو¿ں کی اس جلن سے کہیں زیادہ قابل قبول ہے جو گھروں میں بے روزگاری ، بھوک، مایوسی اور موت کی صورت اتر جاتی ہے۔ غریب چاہے سرکاری ملازم ہو یا مزدور، اسے جب نوکری اور مزدوری سے محروم کیا جائے گا تو اس کے دل سے اٹھنے والا دھواں ہر سموگ پر بھاری ہو گا۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں