21

گزشتہ دور میں پارلیمینٹ کی ناکامی کا ذمہ دار صرف نواز شریف تھا اور اس کا واحد ثبوت یہ ہے ۔۔۔۔۔ رؤف کلاسرا نے میاں صاحب کے “کیوں نکالا ” کا ایک اور جواب قوم کے سامنے رکھ دیا

” >
لاہور (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں پھر وہی منظر تھا ۔ اہم ایشوز پر ایم این ایز کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کا عالم ۔ اب تو ایسے مناظر دیکھتے عمر گزر گئی‘نہ پارلیمنٹیرینز سنجیدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہم یہ بات نوٹ کرنے سے باز آتے ہیں ۔اگر قومی اسمبلی میں۔۔۔۔۔

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزارت تجارت کی جانب سے یہ انکشاف کیا جائے کہ پچھلے پانچ برسوں میں چین سے ہم نے پچاس ارب ڈالر کی اشیا کیش پر منگوائی ہیں‘ جبکہ چالیس ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر یہ اشیا خرید رہے تھے‘ تو بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ نئی قومی اسمبلی بھی وہیں سے شروع ہوئی ہے جہاں نواز شریف چھوڑ کر گئے تھے۔ نواز شریف نے جو اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور گیلانی سے سنبھالی تھی ویسی ہی وہ چلاتے رہے۔ میں نواز شریف کو اس لیے بھی اسمبلی کی ناکامی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ وہ آٹھ آٹھ ماہ تک اسمبلی نہیں آئے۔ اب وزیراعظم عمران خان بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں‘ وہ بھی اسمبلی سے دور رہتے ہیں ۔ حیران ہوتا ہوں ‘ نتیجہ مختلف کیسے نکلے گا؟ اسمبلی وہ فورم ہے جس سے یہ سیاستدان طاقت حاصل کرتے ہیں‘اقتدار لیتے ہیں‘ لیکن اقتدار لیتے ہی وہ اس اعلیٰ فورم کو نگلنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسمبلی ایک ذریعہ ہے پاور تک پہنچنے کا‘ اس سے آگے اس کی کوئی اوقات نہیں ۔سولہ برس کے اس عرصہ میں دیکھا کہ پارلیمنٹ کا سب سے اہم ایک گھنٹہ وہ ہوتا ہے

جب وقفہ سوالات شروع ہوتا ہے اور یقین کریں اس وقت اس ہاؤس میں سب سے کم حاضری ہوتی ہے۔ سب سے کم وزیر اور نہ ہونے کے برابر حکومتی بینچوں پر ایم این ایز۔ اپوزیشن کو بھی اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ جس نے کبھی تحریری سوال پوچھا ہوتا ہے وہ موجود ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو وہ بھی سوال پوچھ کر بھول جاتا ہے اور ہاؤس میں موجود نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے کئی اہم سوالات کے جوابات جن پر ہمارے خیال میں اہم بحث ہونی چاہیے تھی اور حکومت کو رگڑا ملنا چاہیے تھا ‘وہ چھوٹ جاتا ہے اور سپیکر اگلے سوال پر چلا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو حکومتی ارکان بالکل سنجیدہ نہیں لیتے۔ وہ بے چارابولتا رہ جاتا ہے کہ آرام سے بیٹھ جائیں‘ لیکن کوئی وزیر ان کی بات نہیں سنتا ۔ اسد قیصر صاحب میں زیادہ جرأت نہیں کہ وہ ایسے ایم این ایز اور وزرا کو ہاؤس سے نکال دیں جو وہاں بیٹھک کا سا سماں بنا کر‘ہال میں چلتے پھرتے اور گپیں لگا رہے ہوتے ہیں‘ جیسے وہ انار کلی بازار میں دوستوں کے ساتھ واک کرنے اور فالودہ کھانے آئے ہوں ۔ اگرچہ اسد قیصر نے پچھلے تین ماہ میں بہت سیکھنے کی کوشش کی ہے

۔ اگرچہ ان کے اندر وہ صبر ہے جو اپوزیشن کی لمبی اور بعض دفعہ بے تکی تقریریں سننے کے لیے درکار ہوتا ہے‘ لیکن اسد قیصر کی حد سے زیادہ شرافت ان کے خلاف جارہی ہے‘ کیونکہ ان کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔اسمبلی میں پچھلے ہفتے ایک عجیب سماں دیکھا جب حکومت کی طرف سے کورم پوائنٹ آئوٹ کیا گیا تاکہ اجلاس نہ ہو سکے۔ میں دو ہزار دو سے پارلیمنٹ جارہا ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی حکومت نے یہ حرکت کی ہو جو تحریک انصاف نے کی کہ سب ایم این ایز اُٹھ کر گیلریوں میں چلے گئے ہوں اور ایک سرکاری ایم این اے نے کہا ہو: کورم پورا نہیں ہے لہٰذا اجلاس جاری نہیں رہ سکتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس بات پر تحریک انصاف کے لوگ بڑے خوش ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے پائے گئے اور کہا: دیکھا ہم نے اجلاس نہیں چلنے دیا ۔ایک طرف یہ رونا رویا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں‘ دوسری طرف ایک اجلاس پر قوم کے دس کروڑ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دس کروڑ روپے لے کر بھی حکومتی اور اپوزیشن کے لوگ سنجیدہ پن کا مظاہرہ نہیں کرتے تو پھر ان کا کیا ہوسکتا ہے؟ اس وقت جتنے بھی ایم این ایز اسمبلی میں موجود ہیں وہ سب کاروبار کرتے ہیںیا جاگیردار ہیں۔

ان میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو اپنی ان فیکٹریوں کے ملازمین کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ الاؤنس دے کر یہ برداشت کر یں گے کہ وہ ملازم فیکٹری میں کوئی کام نہ کریں اور یوں ہی جتھوں کی شکل میں گھومتے پھرتے رہیں ،یا کوئی جاگیردار برداشت کرے گا کہ اس کا زرعی مزدور کھیت کو پانی لگانے کے لیے انجن چلا کر آرام سے حقہ پینے بیٹھ جائے اور کھیت میں پانی جائے نہ جائے‘ اس کی بلا سے؟ ہمارے اندر کیوں یہ مرض آگیا ہے کہ ہم ہر سرکاری کام میں حرام خوری پر اتر آتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے ذاتی کام زیرو ٹالرنس پر کرتے ہیں مگر اسمبلی پہنچتے ہیں تو اس کے برعکس کرتے ہیں۔ انہیں ڈھائی تین لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے، ہرماہ اسی نوے ہزار سیشن الاؤنس ملتا ہے، ہر کمیٹی کا اجلاس اٹینڈ کرنے پر انہیں پچاس ساٹھ ہزار الاوٰنس الگ ملتا ہے۔ انہیں لاہور، ملتان، کراچی، کوئٹہ، سکھر سے سیشن میں شرکت کے لیے مفت پی آئی اے ٹکٹس فراہم کرتا ہے‘ ورنہ پٹرول کا پورا خرچہ۔ بیرون ملک پارلیمانی دوروں کا سب خرچہ عوام کی جیب سے ادا ہوتا ہے۔ انہیں دوائیاں مفت عوام کے ٹیکس سے ملتی ہیں، سرکاری گاڑیاں، پٹرول، گھر ، سب کچھ عوام کی جیب سے ملتا ہے اور اگر یہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوجائیں

تو بھی ان کو کیش الاؤنس علیحدہ پیش کیا جاتا ہے کہ آپ کا شکریہ آپ تشریف لائے اور پھر بھی چند گھنٹے آپ سیشن کو سنجیدہ نہ لیں تو پھر آپ کو کیا کہا جائے؟ آپ بتائیں اس سے اہم ایشو کیا ہوسکتا تھاکہ گوادر میں ستر ہزار بلوچ ماہی گیروں کی معاشی زندگیاں اس وقت گوادر ایکسپریس وے کی وجہ سے خطرے میں ہیں اور وہ سب خاندان وہاں احتجاج کررہے ہیں؟ اسی طرح کیماڑی کراچی کے ہزاروں ماہی گیر بھی ایسے ہی خطرے کا شکار ہیں۔ وہ غیرملکی ٹرالرز کو لائسنس دینے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اب ان کو بٹھا کر مسائل سننے اور حل کرنے کی کوشش کون کرے گا‘ جب پوری پارلیمنٹ کو اس میں دلچسپی ہی نہیں اور وفاقی وزیر علی زیدی خود آنے کی بجائے پارلیمانی سیکرٹری کو کہہ دیتے ہیں: یار ذرا دیکھ لینا ۔اسی طرح یہ سوچنے کو کوئی تیار نہیں ہے کہ چین سے یہ کون بات کرے گا ‘ وہ ہمارا دوست ہے اور اسے علم ہے کہ ہمارے پاس ڈالرز نہیں ہیں‘ لہٰذا وہ ہمیں چینی کہاوت کے بقول مچھلی کھلانے کی بجائے مچھلی کا شکار سکھائے۔ کیا یہ ممکن نہ تھا؟ ہم اربوں روپے کے لیپ ٹاپس اور موبائل فون چین سے منگوا کر ڈالروں میں ادائیگی کررہے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں اور ہم قرضہ مانگ کر ادائیگیاں کررہے ہیں۔

چین پاکستان میں لیپ ٹاپ اور موبائل فونز بنانے کے کارخانے لگا دیتا ؟ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے علاوہ ہزاروں نوکریاں پیدا ہوتیں اور ڈالر بچتے۔کیا ہمارے کسی وزیراعظم نے کبھی چین کے ساتھ تجارت کے اعدادوشمار نہیں پڑھے کہ ہمیں چین کہاں کہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں مدد کرسکتا ہے؟ ملکوں کی دوستیاں کس کام آتی ہیں اگر ان دوستیوں سے عوام کو فائدہ نہ ہو ؟ حکمران تو چین سے پروٹوکول لے کر خوش خوش لوٹ آتے ہیں‘ لیکن عوام کے لیے اس میں کیا ہے ؟ عوام تو وہی عالمی گاہک بن کر رہ گئے ہیں۔ ستر برس بعد بھی ہم دنیا بھر سے چیزیں خرید رہے ہیں، کچھ بنا کر فروخت نہیں کررہے۔ اس سے بڑی ہماری ناکامی کیا ہوگی کہ پاکستان سال بھر میں جو اٹھارہ بیس ارب ڈالرز کے قریب پوری دنیا کو ایکسپورٹ کر کے کماتا ہے‘ وہی رقم ہر سال اکیلا چین ہم سے لے جاتا ہے۔ اکیلا چین ہم سے تجارت میں اتنا کما رہا ہے‘ جتنا پورا پاکستان پوری دنیا کو اپنی سب اشیا بیچ کر نہیں کما پا رہا۔ چین کا یقینا قصور نہیں لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟یہ ہے ہماری پالیسی، ہمارے پالیسی میکرز اور ہم عوام‘جبکہ ہمارے پارلیمنٹیرینز کے پاس ان اہم ایشوز پر بات کرنے کے لیے نہ وقت ہے، نہ ہی دلچسپی۔جتنی بور موجودہ پارلیمنٹ ہوچکی ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ وہی ایم این ایز جو پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیتے اس وقت اچانک چیخنا شروع ہوجائیں گے، ہنگامہ ہوجائے گا اگر کوئی ایم این اے زرداری ، نواز شریف یا عمران خان کی شان میں گستاخی کر بیٹھے۔ کیا پارلیمنٹ ان چند لیڈروں کے تقدس کے لیے بنائی گئی ہے یا اس سے عوام کو بھی کچھ فائدہ ہونا چاہیے جو ایک اجلاس پر روزانہ دس کروڑ رو پے ادا کررہے ہیں؟ سب پارٹیوں کے ایم این ایز کو اگر پروا ہے تو دو باتوں کی‘ ایک تو ان کے لیڈر زرداری، نواز شریف یا عمران خان کی شان میں کوئی گستاخی اسمبلی فلور پر نہ ہواور دوسرا انہیں پانچ ہزار روپے روزانہ الاؤنس ملتا رہے ،چاہے انہیں جعلی حاضریاںہی کیوں نہ لگانا پڑیں ۔ باقی ستے خیراں۔( ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں