شہباز شریف کی گرفتاری کے پیچھے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نکلے!!

لاہور (ویب ڈیسک) معروف اینکر عمران خان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کی بیوروکریسی عثمان بزدار کو نہیں بلکہ شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب سمجھ رہی تھی۔کیونکہ یہ لوگ دس سال تک شہباز شریف کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں

اور یہ سارے وہ لوگ ہیں جو شہباز شریف کے ہاتھوں میں کام کرتے رہے ہیں۔تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے جب کوئی آرڈر آتا تھا تو انہیں محسوس ہوتا تھا کہ یہ بات شہباز شریف کی طرف سے آئی ہے۔اس لیے شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد معاملات کچھ کنٹرول ہوئے ہیں۔اور بیوروکیریسی تھوڑی کنٹرول ہوئی ہے جب کہ تحریک انصاف تھوڑا بہت اب بیوروکرسیی کے سرکل چلنا شروع ہو گئی ے لیکن تحریک انصاف نے بھی اب زیادتی کرنا شروع کر دی ہے کیونکہ ڈی سی کے سیالکوٹ کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کہ وزراء کو سیالکوٹ کو پروٹوکول نہیں دیا گیا تھا۔۔یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب نےمسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کو حراست میں لیا۔ ترجمان نیب کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آشیانہ کمپنی اسکینڈل کیس میں حراست میں لیا گیا ۔ شہباز شریف پر غیر قانونی ٹھیکے دینے کے الزامات ہیں۔ جس کے بعد انہیں 6 اکتوبر کو نیب کورٹ میں پیش کر کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیاگیا۔شہباز شریف اس وقت نیب حوالات میں موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ان کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور اسے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔جب کہ کہ نواز شریف کی گرفتاری کے بجائے شہباز شریف کی گرفتاری کے وقت مسلم لیگ ن کے کارکنان میں زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا۔شہباز شریف کی جب بھی احتساب عدالت میں پیشی ہوتی ہے تو کارکنان کی بڑی تعداد موجو ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں