افغان جنگ کا اختتام، امریکا کا دھماکہ خیز اعلان

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی سیکریٹری دفاع جِم میٹس نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان میں رواں برس کے اختتام تک جنگ خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے اقوام متحدہ اور خطے کے دیگرممالک کا تعاون درکار ہے۔

سیکریٹری دفاع نے جنگ کے خاتمے سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں وضاحت دی کہ اس حکمت عملی میں امریکی فوجیوں کی افغانستان سے بے دخلی شامل نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ سویت یونین کے حملے سے لیکر آج 40 برس ہوگئے، بس رواں برس جنگ ختم ہوجائے، یہ عرصہ بہت ہوتا ہے۔جِم میٹس نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کا یہ ٹھیک وقت ہے اور افغانستان کے شہریوں کو ان کے ٹھیک راستے پر چھوڑ دیاجائے۔کیلیفورنیا میں قومی دفاعی حکمت عملی سے متعلق ایک اجلاس میں انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں امن کا حصول عالمی فریقین سمیت خطے کے اہم کرداروں کی بدولت ممکن ہے۔جِم میٹس نے واضح کیا کہ ہمیں خطے کے دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کی مدد حاصل کرنی ہوگی۔سیکریٹری دفاع جِم میٹس نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی امن کے راہ میں حقیقی امید دیکھ رہے ہیں،جِم میٹس نے بتایا کہ امریکا کو فوجیوں کی بے دخلی پر کوئی دباؤ نہیں ہے لیکن مستقل حل کے لیے کوشاں ہے جس کے تحت باغی طالبان کو کابل میں انتظامی امور میں کردار ادا کرنے کا موقعہ ملے گا تاہم انہیں افغان حکومت کا تختہ الٹنے نہیں دیا جائیگا۔ریگن نیشنل ڈیفنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم 41 ممالک کا اتحاد ہیں جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا جنگی اتحاد ہے اور ہم تاحال اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغان شہریوں کی زندگیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ووٹ کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اس لیے دہشت پھیلا رہے ہیں۔امریکی سیکریٹری دفاع جِم میٹس نے بتایا کہ افغانستان میں امریکا کا واحدمقصد مفاہمت ہے اور اسی مقصد کے لیے سفیر زلمے خلیل زاد کو مفاہمتی عمل کا انچارج مقرر کیا، ہماری پوری کوشش کہ جنگ کے خاتمے کا سیاسی حل نکلے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں