سعودی ولی عہد کو مجرم قرار دے دیا گیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی سینیٹرز نے کہاہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں سی آئی اے کی بریفنگ کے بعد زیادہ پریقین ہو گئے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ان کے قتل میں کردار تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سینیٹر لنڈزی گراہم نے کہا کہ وہ پریقین ہیں کہ محمد بن سلمان اس قتل میں ملوث تھے۔

جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے سعودی شاہوں کے بارے میں کہا کہ وہ ایک پاگل پن اور خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔سی آئی اے سربراہ جینا ہیسپل نے جب سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دی تو اس کے بعد بھی سینیٹرز کے الفاظ میں موجود سختی کم نہیں ہو سکی۔لنڈزی گراہم نے خاشقجی کے قتل کے حوالے سے کہا کہ وہ سعودی عرب کی یمن میں جنگ کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں اسلحہ دینے کے حامی نہیں۔سینیٹر بوب بیننڈز نے بھی ان کی حمایت کی اور کہا کہ امریکہ کو سعودی عرب کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اقدامات دنیا کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ایک اور سینیٹر باب کورکر نے میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو میں کہا کہ میں ذہن میں اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کہ محمد بن سلمان نے خاشقجی کو قتلکرنے کا حکم دیا تھا۔ٹنسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے کہا کہ اگر محمد بن سلمان کو عدالت میں پیش کیا جاتا تو انھیں 30 منٹ میں مجرم قرار دیا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سعودی شہزادے کی مذمت کرنے سے انکار کر کے صحافی کے قتل کو معاف کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں