300 ارب ڈالر سے زائد رقم پاکستان کے خزانے میں جمع ہونے کی توقع

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئی موبائل پالیسی سے پہلے موبائل فون لائسنسوں کی تجدید نہ کی جائے، پالیسی کی تیاری کے لئے موبائل کمپنیوں کے نمائندوں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔پی ٹی اے حکام نے پیر کو ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ

نئی ٹیلی کام پالیسی کے تحت آئندہ سال کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید سے 300 ارب ڈالر سے زائد رقم پاکستان کے خزانے میں جمع ہونے کی توقع ہے۔حکام نے بتایا کہ نئی موبائل پالیسی کے تحت موبائل فون کمپنیوں کو کاروبار کی وسعت، محفوظ سرمایہ کاری سمیت ملکی مفادات، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع، نیٹ ورک کی توسیع اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم نکات شامل کئے جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پالیسی کی تیاری میں تمام موبائل کمپنیوں سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائے جائے گی۔ واضح رہے کہ اس سےقبل اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیررجسٹرڈ موبائل اور جی ایس ایم ڈیوائسز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا، صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موبائلز و دیگر مواصلاتی ڈیوائسز کی تصدیق کرلیں۔پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کو متنبہ بذریعہ ایس ایم ایس کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ 20 اکتوبر سے پہلے اپنے فون کی تصدیق کرلیں بصورت دیگر یہ مواصلاتی کام کے استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔پی ٹی اے کے مطابق صرف تصدیق شدہ موبائل فون اور GSM ڈیوائسز قابل استعمال ہوں گے جبکہ غیر رجسٹرڈ فونز پر کالز موصول نہیں ہو گی البتہ اس پر بذریعہ وائی فائی نیٹ استعمال کیا جاسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں