اللہ اکبر۔۔ انڈونیشیا کے ساحل پر کیا ہو رہا تھا کہ اچانک سونامی سب کچھ بہا لے گیا؟ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

" >

جکارتہ(ویب ڈیسک) :انڈونیشیا میں آنے والا خوفناک سونامی لائیو کنسرٹ کو بہا لے گیا۔معروف بینڈ 17 کے باس پلئیر اور مینیجر جاں بحق ہو گئے۔گلوکار کی اہلیہ سمیت 3 ممبران کا سراغ نہ لگایا جا سکا۔تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا میں آنے والے خوفناک سونامی نے سینکڑوں افراد کو موت کی آغوش میں سلا دیا۔ااس موقع پر ساحل سمندر پر

جاری ایک لائیو کنسرٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ۔انڈونیشیا کا معروف بینڈ 17 ساحل سمندر پر پرفارم کررہا تھا کہ اچانک سونامی کی بے رحم موجوں نے سب کچھ تہس نہس کر ڈالا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے ہنگامی حالات سے نمٹنے والے محکمے نے بتایاکہ آبنائے سٴْنڈا میں یہ آتش فشاں پہاڑ ہفتے کی شب پھٹا۔انڈونیشیا کے حکام کے مطابق آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کے بعد سمندر میں پیدا ہونے والی سونامی لہروں کے سبب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 168 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعدادایک ہزار سے زائد ہے۔ حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کے سبب لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 30 ہے۔انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی (بی این پی بی) کے ترجمان سٹوپو پروو نٴْگروہو نے ایک بیان میں کہا کہ سونامی کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ حکام ابھی تک سونامی سے متاثرہ علاقوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں۔انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندر کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ماؤنٹ انک کراکاٹاؤ نے لاوا اگلنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی یہ سمندر میںسونامی کی وجہ بھی بنی۔ یہ آتش فشاں پہاڑ جاوا اور اسماٹرا جزائر کے درمیان موجود آبنائے سٴْنڈا کے علاقے میں واقع ہے۔بی ایم کے جی کے مطابق ہفتے رات نو بجکر تین منٹ پر آتش فشاں پہاڑ سے لاوا پھوٹا جبکہ سونامی کی لہریں رات نو بجکر 27 منٹ پر ساحل سے ٹکرائیں۔بی این پی بی کے ترجمان سٹوپو پروو نٴْگروہو کے مطابق پورے چاند کی وجہ سے سمندری لہریں پہلے ہی بلند تھیں، لہٰذا دو قدرتی مظاہر جمع ہونے کے سبب یہنقصان ہوا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہلاکتیں آبنائے سٴْنڈا کے لامپونگ اور بانتن صوبوں میں ہوئیں۔ اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ بانتن کا علاقہ متاثر ہوا جہاں چھٹیوں کا سیزن کے ہونے کے سبب سیاحوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں