عمران خان کی بہن علیمہ خان کا بچنا مشکل۔۔۔دوبئی کے بعد امریکہ میں جائیداد کا انکشاف۔۔۔ کل اثاثوں کی مالیت کتنی ہے؟ جانیے

نیویارک(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی دبئی کے بعد امریکہ میں جائیداد سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نیوجرسی میں واقع 4 منزلہ فلیٹس کی مالک ہیں ۔انکے فلیٹس کی موجودہ مالیت 45 کروڑ ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ ایک اور

غیر ملکی جائیداد کی مالک نکلیں۔وہ دبئی کے بعد امریکہ میں بھی مہنگی جائیداد کی مالک نکلیں۔وہ امریکہ میں نیو جرسی میں واقع 4 منزلہ فلیٹس کی مالک ہیں۔اس فلیٹس کی ملکیت کے لیے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کا رابطہ نمبر دیا گیا ہے۔یہ جائیداد شاہ ریز نے والد کے بزنس پارٹنر کی پاور آف اٹارنی استعمال کرتے ہوئے خریدی۔یہ جائیداد 2004 میں خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اس جائیداد کا 2017 کے ٹیکس گوشواروں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔واضح ہو ایف بی آر نے ایف آئی سے موصول ہونے والے فہرست میں وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت 5 سو سے زائد لوگوں کو نوٹس بھجوائے تھے جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کا ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھانے کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے سیکشن 122 کے نوٹس کے جواب میں بتایا گیا کہ وہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھا چکی ہیں اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کر چکی ہیں جبکہ قانون کے مطابق انہیں تحفظ حاصل ہے اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کردہ اثاثہ جات کے ذرائع نہیں پوچھے جا سکتے۔ذرائع کے مطابق اگر علیمہ خان کی جانب سے اثاثے چھُپانے کی شق کے تحت 25 فیصد ٹیکس اور 25 فیصد جُرمانہ جمع کروایا جاتا تو اس صورت میں ٹیکس قوانین کے مطابق ان کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ سمیت دیگر فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی تھی کیونکہ اب ٹیکس چوری بھی اینٹی منی لانڈرنگ کے زُمرے میں آتی ہے اور جہاں چھُپائے جانے والے اثاثہ جات پر عائد ٹیکس کی رقم 5 لاکھ سے زیادہ ہو تواس صورت میں جیل بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 122 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے ان سے ذرائع آمدن بھی پوچھے جا رہے ہیں اور ذرائع آمدن نہ بتانے والے لوگوں کے خلاف سیکشن 182 کے تحت ان اثاثوں کو ان کی آمدنی میں شامل کر کے ان پر پچیس فیصد ٹیکس اور پچیس فیصد جُرمانے عائد کیے جائیں گے۔بعد ازاں علیمہ خان کی جانب سے غیر قانونی اثاثہ جات کی مجموعی مالیت کے 50 فیصد ٹیکس و جُرمانے کی بجائے ن لیگ کے دور حکومت میں اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں