خود میاں فصیحت اور دوسروں کو نصیحت: پی ٹی آئی حکومت نے وہ کام کر دیا جس پر (ن) لیگی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیئرمین احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے گودام سے پکڑی گئی نان کسٹم پیڈ قطری سفارتخانہ کی گاڑیوں کو 2 ماہ کے اندر واپس قطر بھیجنے کے احکامات ، روزنامہ 92 کے مطابق وزارت خارجہ کی طرف سے شوکاز نوٹس کے عنوان سے جاری لیٹر میں کہا گیا کہ عرب شہزادوں کے ذاتی استعمال کیلئے ڈیوٹی فری گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔

ان گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کے بارے میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا ،پاکستان اور قطر کے درمیان دوطرفہ اچھے تعلقات ہیں اس لئے یہ تجویز دی گئی ہے کہ دو ماہ کے اندر قطر ایمبیسی ان گاڑیوں کو دوبارہ اپنے ملک میں بھیج دے ،ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں کسٹمز انٹیلی جنس نے روات میں 26 نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا تھا،جن کے بارے میں انکشاف ہوا کہ یہ قطری شہزادوں کی ہیں اور پاکستان میں ان کی ملکیت قطری سفارتخانے کی ہے ۔ کسٹم ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں سیف الرحمٰن کی ٹیکسٹائل ملز کے گودام میں رکھی گئی تھیں۔ چھاپے کے دوران سیف الرحمٰن کی ٹیکسٹائل ملزکے ویئر ہاؤس سے 26 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد ہوئی تھیں، جنہیں وہیں سیل کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لگژری گاڑیاں 3 برس قبل شکار کیلئے لائی گئی تھیں، جبکہ کسٹم ایس آر او جاری کرکے انہیں صرف تین ماہ کیلئے کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا۔ تاہم قطری شہزادے گاڑیاں واپس لے کر گئے نہ ہی ان کی ڈیوٹی ادا کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شکار کیلئے آنے والے شہزادے جاتے ہوئے اپنی گاڑیاں اپنے میزبانوں کو بخش جاتے ہیں اور قانون کے مطابق گاڑیوں کی سفارتی حیثیت ختم نہیں کرتے ۔جبکہ کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ شکار کیلئے لائی گئی سفارتی حکام کی گاڑیوں کو ٹیکس کی معافی صرف 3 ماہ کیلئے ہوتی ہے ،کسٹم حکام نے بھی ایس آر او جاری کرکے ان گاڑیوں کو تین ماہ کیلئے کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں