دبئی پولیس نے نوجوان لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے والے دلالوں کو پکڑنے کا دلچسپ طریقہ ڈھونڈ نکالا

" >

دُبئی(ویب ڈیسک ) پولیس نے 44سالہ شخص کو ایک لڑکی سے زبردستی جسم فروشی کروانے کی الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے شخص کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا جاتا ہے جس نے اپنی ہم وطن کم سن لڑکی کو گاہکوں کی جنسی ہوس پُوری کرنے کے لیے یرغمال بنا رکھا تھا۔

ملزم نے القصیص کے علاقے میں ایک فلیٹ خرید رکھا تھا جہاں وہ ایک چینی خاتون کی مدد سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتا تھا۔ملزم اپنی ہم وطن بنگلہ دیشی لڑکی کے لیے گاہک گھیر کر لاتا، جن سے اس گھناؤنے کام کے بدلے 100 درہم وصول کیے جاتے۔ عدالت میں 18 سالہ لڑکی نے بتایا کہ ملزم اُسے وزٹ ویزہ پر فروری 2018ء میں لایا تھا۔ لڑکی کے مطابق ’’مجھے جاب کی ضرورت تھی۔ ملزم نے میرے وطن میں مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے نوکری دلوائے گا۔اس وقت میری عمر صرف 17 سال تھی جس پر ملزم نے میرا پاسپورٹ بنوا کر اُس پر عمر 25 سال درج کروائی اور پھر مجھے لے کر دُبئی آ گیا۔ملزم مجھے ایئرپورٹ سے اپنے فلیٹ پر لایا اور پھرمجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پھر ملزم نے مجھے بتایا کہ میں اُس کے لیے جسم فروشی کا دھندا کروں گی۔ ملزم روز چار سے پانچ گاہک گھیر کر لاتا جو مجھ سے اپنی ہوس پُوری کرتے۔ اس سب کے بدلے میں ملزم بنگلہ دیش میں مقیم میری ماں کو مہینے کے صرف پندرہ سو درہم بھیجا کرتا تھا۔ ملزم نے لڑکی سے بعد میں بھی کئی بار جنسی لذت حاصل کی۔لڑکی کے علاوہ ملزم نے تین اور جسم فروش خواتین بھی اپنے اڈے پر رکھی ہوئی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مخبری ہوئی تھی۔ جس پر ایک پولیس اہلکار نے خود کو گاہک ظاہر کیا اور اڈے پر پہنچ گیا۔ جونہی ملزم کو لڑکی کے کمرے میں لے جایا گیا، اُس نے فون پر اپنی باہر کھڑی پولیس ٹیم کو میسج کر دیا۔ جنہوں نے فلیٹ پر ہلّہ بول کر وہاں موجود تمام افراد کو گرفتار کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں