گھر کے طاق میں رکھا سکون

" >

پرسکون احساسات کی تونگری سے زندگی گل و گلزار ہو جائے گی ، تاریک تخیلات میں اُجالے ہی اُجالے ہو جائیں گے، مایوس سانسوں میں پرمسرت نوید درآئیں گی، سوقدم اُٹھائیے اس طاق کی طرف جس میں قرآن مقدس کب سے آپ کا منتظر ہے ان گنت بے قرار دل ایسے

ہیں کہ جو زیست کے ہر پل میں سرور اور سکون کو جابہ جا کھوجتے پھرتے ہیں، کرب اور ملال کے لامتناہی سلسلوں میں گھرے کروڑو ں انسان، طرب کا اوج تلاشنے کے لئے کروڑوں روپے تک خرچ کر ڈالتے ہیں مگر پیچ دار اور بل کھاتی حیات کے کسی گوشے اور کونے کھدرے میں کیف کی کوئی خفیف سی رُو پہلی کرن تک دکھائی نہیں دیتی، جھوٹی محبتوں کے حصول میں ایک طویل مہم جوئی کے باوجود ناکامی کے باعث درد کے مارے نوجوان خلوت نشینی اختیار کر کے حیات ماضی کو کرید کرید کر سسکتے اور تڑپتے اپنے من میں اضطراب کو فزوں تر کر کے سکون اور طمینان حاصل کرنے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہیں، مال کے حریص، دولت کے رسیا اور لگثری بنگلوں کے باسی اپنے دل کی انبساط کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں مگر سب کچھ کما لینے کے باوجود رات کے وقت گولیوں کے بغیر نیند انہیں اپنی آغوش میں لینے پر آمادہ نہیں ہوتی۔اک چبھن ہے جو بے چین کیے رکھتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں آپ چہارسُو نظریں دوڑا لیں ، آپ اپنے اعزہ سے لے کر اقربا تک کا جائزہ لے کر آسودہ حال لوگوں تک کو دیکھ لیں اکثریت ہی مصائب و آلام کی گود میں بیٹھی کراہ رہی ہو گی، آپ اپنے اڑوس پڑوس کے تمام گھروں کا مشاہدہ کر لیں، شاید ہی کوئی ایک بھی گھر ایسا نہ ملے جہاں ادویات کا داخلہ ممنوع ہو، ہر کوئی اپنے

گرد المیوں کی لکیریں کھینچ کر بیٹھا ہے، ایسے دگرگوں حالات میں ہر شخص فرحت انگیز لمحات کو پالینے کے لئے سب کچھ کھپا رہا ہے مگر سکون ہے کہ انسان سے کوسوں دور ہے ۔ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا کوئی بھی انسان خفیف سا تو قف کر کے ، راحت اور نشاط کے حصول کے لئے اپنی تلاش اور کشاکش پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ نہیں کہ آیا یہ کاوشیں مستقیم راستوں پر گامزن ہیں بھی یا نہیں، کوئی ایک شخص بھی یہ غو ر کر نے پر آما د ہ نہیں کہ یہ محبتیں اور ر یا ضتیں مثبت سمت کی طر ف ہیں یا سر ا بو ں کے تعا قب میں ا پنا سب کچھ بر با د کیا جا ر ہا ہے ۔ا مر یکی ا نسٹی ٹیو ٹ ا لبر ٹ آ ئن سٹا ئن میں جینیا ت کے ما ہر سا ئنس دا ن کا نا م رابر ٹ ہے ،اس سا ئنس دان نے اپنی پو ر ی ز ند گی ما ں کے پیٹ میں بچے کے نشو و نما پا نے کی مختلف کیفیا ت پر تحقیق کر تے ہو ئے گز ا ر ی مگر جب اس نے قر آ ن مقد س میں طلا ق کے بعد تین طہر تک عد ت گزار نے کی آ یا ت پر تحقیق کی تو وہ ورطہء حیر ت میں ڈو ب گیا ،جو ں جو ں

وہ قر آ ن پڑ ھتا گیا ،دل میں سما تا گیا ا ور با لآ خر ا س نے ا پر یل 2014ء میں ا سلا م قبو ل کر لیا ،ر ا بر ٹ کہتا ہے کہ مجھے جو سکو ن قر آ ن پڑ ھ کر نصیب ہو ا ا س نے میر ی ز ند گی بہا ر آ فر یں بنا د ی ، انسا ن د نیا کے کسی بھی مذ ہب کا پیر و کا ر ہو حتیٰ کہ مذ ا ہب سے عنا د و کد ر کھنے و ا لے با غی بھی ا گر تما م تر حسد اور بغض د لو ں سے نکا ل کر قر آ ن کا مطا لعہ کر لیں تو کو ئی و جہ نہیں کہ ا ن کے د لو ں میں مو جو د تما م سو ا لا ت ،ا شکا لا ت ا ور شبہا ت کو سکو ن نہ ملے ۔ا گست 1997ء کو ا یک ہسپا نو ی نے ا سلا م قبو ل کر لیا اس کا نا م خا لد ر کھا گیا ،اس نے بگ بینگ کی تھیو ر ی ا ور قر آ ن پر تحقیق کی تو بے سا ختہ ا س کی آ نکھو ں سے آنسو وٴ ں کی جھڑ ی لگ گئی ،پھر ا س نے بچے کی پید ا ئش کا ہر مر حلہ اور ا س کے د نو ں کا حسا ب جو قر آ ن میں موجو د تھا

ا س کا جا ئز ہ لیا تو جد ید سا ئنس کو ا س کی تو ثیق کر تے ہو ئے پا یا ،بس پھر کیا تھا ،ا س کے د ل میں ا یمان کے سو تے پھو ٹ پڑ ے جو ا سلا م قبو ل کر نے پر منتج ہو ئے ،آ پ ا فر یقہ کے ملک یو گنڈا چلے جا ئیں وہاں کا شہر ی جو نی کو ئی عا م شخص نہ تھا بلکہ و ہ جا ثم شہر میں کیتھو لک عیسا ئیت کا د ا عی ا ور مبلغ تھا ،وہ خو د کہتا ہے کہ عیسائیت کی بہت سا ر ی با تو ں سے ا سے کبھی سکو ن قلب نہ ملا ، ا س نے جب سو ر ئہ مر یم کا ا نگر یز ی تر جمہ پڑ ھا تو ا س کے ہر ا ضطر ا ب کو شفا مل گئی ،ا س کی تما م تر بے چینی کو تشفی حا صل ہو گئی ، ا س کی ز با ن پر کلمہ جا ر ی ہو گیا ، ا س نے ا پنا نا م طہٰ ر کھا لیا ۔آ ئیے ! میں آپ کو خو نیں ا ور و حشی جبر و ظلم کے لئے بنا ئے گئے ز ند ا ن گوا نتا نا مو بے کے کیمپ ڈ یلٹا کا ا یک منفر د و ا قعہ بتا وں ،و ہا ں تعینا ت ا یک فو جی کا نا م ہو لڈ

بر و کس تھا ،جب جنر ل بڈ گو ا نتا نا مو بے کا ا نچا ر ج تھا تو ا س نے مسلما ن قید یو ں کے سا منے قر آ ن کی بے حرمتی کی ، اور وہاں موجو د اکثر فو جی بھی ایسا ہی کچھ کرتے ۔تما م تر سفا کیت کا مظا ہر ہ د یکھ کر اس نے قر آ ن کے مطا لعے کا فیصلہ کیا پھر اُس پر رب کی رحمتو ں کی بر کھا ئیں بر سنے لگیں ا ور گو ا نتا نا مو جے جیل میں قید ا حمد ا لر شید کے ہا تھو ں ا سلا م قبول کر لیا ،ا س کا نا م مصطفی عبد ا لر شید ہے ،آج بھی ا ُس سے پو چھ کر د یکھ لیں وہ قر آ ن کو سکو ن قلب اور راحت جا ں ملنے کا سبب بتلا ئے گا ۔ا مر یکہ ،مغر ب ا ور یو ر پ میں آ ج بے سکو نی ا ور بے کلی کسی حبس کی ما نند پھیل چکی ہے وہ لو گ سکو ن کی تلا ش میں ما رے پھر تے ہیں ا یسی حا لت ا ضطر ا ب میں جو شخص بھی تلا ش اطمینا ن کے لئے قرآ ن کے سا تھ د و ستی کر لیتا ہے پھر ا س کے د ل کی کا یا ہی پلٹ جا تی ہے،ا مر یکی پا پ سنگر میڈ و نا جس کی زندگی

ا لمیو ں سے بھر ی تھی ، ا س نے د ل کی بے چینی ا ور ذ ہنی خلفشا ر کی حا لت میں قر آ ن کا مطا لعہ شر و ع کر د یا تو ز ند گی میں سکو ن ہی سکو ن در آیا ،بھا ر تی ا دا کا ر ا میتا بھ بچن بھی سکون قلب کے لئے قر آن کا مطالعہ کر چکا ہے،آپ یو ر پ کے حا لا ت پڑ ھ لیں و ہا ں کی بد لتی ر تو ں کو د یکھ کے د نگ رہ جا ئیں گے کہ بر طا نیہ میں ہر سا ل پانچ ہزار سے ز ائد لو گ ا سلا م قبو ل کر ر ہے ہیں ،جن میں یو ر پی خو ا تین ،مر دو ں کے مقابلے میں کہیں ز یا د ہ ہیں ،حتی کہ بر طا نیہ کے سا بق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی لورین بوتھ بھی اسلام قبول کر کے سارے یورپ کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ مادیت اور عیش کوشی میں سکون کھوجنے والو! ایسے کرتوتوں سے کبھی سرور نہیں ملے گا اگر واقعی قرار چاہتے ہو تو قرآن پڑھو۔گناہوں کے بوجھ تلے دبے، بے سکونی میں سرتاپا گڑے وہ مسلما ن جن کے ہر گھر کے طاق اور الماری میں قرآن مجید کسی غلاف میں لپٹا رکھا ہے انہیں خبر ہی نہیں کہ ذہنی سکون اور قلبی اطمینان تو کب سے ان کے طاق میں کسی موٹے غلاف میں موجود ہے، اپنی اپنی زندگیوں کو شہر آشوب بنا لینے والے سکون کے متلاشیو! آج ہی رات کے کسی پہر چپکے سے اُٹھیے ، وضو کیجیے اور طاق میں رکھے قرآن کو کھول کر مطالعہ شروع کر کے اُسے اپنی زندگی کا معمول بنا لیجیے، پرسکون احساسات کی تونگری سے زندگی گل و گلزار ہو جائے گی ، تاریک تخیلات میں اُجالے ہی اُجالے ہو جائیں گے، مایوس سانسوں میں پرمسرت نوید درآئیں گی، سوقدم اُٹھائیے اس طاق کی طرف جس میں قرآن مقدس کب سے آپ کا منتظر ہے۔جہاں میں انقلاب آیا ہے قرآں کی تلاوت سے منور ہے جہاں ، قرآن کے نور و صداقت سے