بریکنگ نیوز : بڑا آیا تھا مارشل لاء لگانے والا ۔۔۔ سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے والے آرمی چیف کے ساتھ ایسی کارروائی ڈال دی گئی کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

" >

خرطوم(ویب ڈیسک) سوڈان فوجی کونسل کے سربراہ عود ابن عوف نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔سوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ عود ابن عوف نے عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد ہی عوامی مظاہروں کے دوران اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر دفاع عود ابن عوف نے اپنے فیصلے

کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔ انھوں نے لیفٹینینٹ جنرل عبد الفتاح عبدالرحمان برہان کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سڑکیں چھوڑنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ تختہ الٹنے والے افراد عمر البشیر کے بہت قریبی لوگ ہیں۔فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔ایک عرصے سے سوڈان کی سربراہی کرنے والے عمر البشیر کا زوال کئی ماہ کے احتجاج کے بعد سامنے آیا جب دسمبر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔عود ابن عوف سنہ 2000 کی دہائی میں دارفور کی جنگ کے دوران سوڈان کی فوجی انٹیلیجنس کے سربراہ تھے۔ امریکہ نے سنہ 2007 میں ان پر پابندی لگا دی تھی۔خرطوم میں مظاہرین ان کے جانے پر جشن منا رہے تھے اور ‘پھر گرا’ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔مظاہرے کی سربراہی کرنے والی تنظیم سوڈان پروفیشنل ایسوسی ایشن نے کہا کہ عود ابن عوف کے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ مظاہرین کی ‘فتح’ ہے۔مظاہرین گھر لوٹنے سے قبل اقتدار سویلین ہاتھوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سوڈان کی کمان جس نئے شخص کے ہاتھ میں دی گئی ہے وہ بھی فوجی ہیں لیکن ایسوسی ایٹیڈ پریس کا کہنا ہے کہ ان کا ریکارڈ دوسرے سوڈانی جرنیلوں کے مقابلے میں زیادہ شفاف ہے۔ ان کے بارے میں کہا گيا ہے کہ انھوں نے مظاہرین سے ملاقات کی ہے اور ان کے خیالات سنے ہیں۔ جمعرات کو عمر البشیر کی برطرفی کے باوجود مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کر دیا اور وہ دارالحکومت خرطوم میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے ڈیرہ ڈالے رہے اور فوج کی جانب سے کرفیو کے اعلان کی مزاحمت کرتے رہے۔جمعے کو فوجی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ فوج طاقت کا استعمال نہیں کر رہی ہے اور سوڈان کا مستقبل مظاہرین طے کریں گے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ فوج امن و امان بحال رکھے گی اور کسی طرح کی گڑبڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔فوجی کونسل نے یہ بھی کہا کہ وہ عمر البشیر کو آئی سی سی کے چارجز کا سامنا کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گی۔عمر البشیر کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے دارفور جنگ کے معاملے میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کا مرتکب پایا ہے۔ تاہم عمرالبشیر آئی سی سی کے چارجز سے انکار کرتے ہیں۔کونسل نے تین مہینے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے جس دوران آئین منسوخ رہے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعے کو مظاہرے میں شامل کم از کم 16 افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بننے سے ہلاک ہوئے ہیں۔