رمضان المبارک کی پہلی طاق رات میں مسجد نبویؐ میں قیام کا روح پرور احوال ۔۔۔ معروف خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء کی زبانی

" >

لاہور (ویب ڈیسک) رمضان المبارک کی پہلی طاق رات لیلۃ القدر کی پہلی شب مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن مبارک میں شبینہ کا قیام کے دوران اشکوں کی برسات میں یہ بے بس ماں بیٹی کی جدائی میں بلک بلک کر رو رہی تھی۔ کیا خبر تھی کہ اسی گھڑی امریکہ میں علیزہ بیٹی بھی

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاٰ چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ اللہ کو جان دے رہی تھی۔ہم ادھر مسجد نبوی میںلیلۃ القدر ر تلاش کر رہے تھے ادھر علیزہ بیٹی جنت میں ہماری بیٹی مومنہ کو تلاش کر رہی تھی۔ کوئی تعلق تو تھا ان نوجوان معصوم روحوں کا جو ہمیں پہلی طاق رات نے ہلا کر رکھ دیا۔ نیو جرسی امریکہ میں ہمارے عزیز نوید اختر وڑائچ کی انیس سالہ خوبصورت خوب سیرت کئی صلاحیتوں کی مالک بیٹی بھی کار حادثہ میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اکیسویں رمضان کی دعوت افطار سے واپسی پر کسی ظالم کی تیز رفتاری نے نوید اور عامرہ کے دل کا ٹکڑا بھی چھین لیا۔علیزہ بھی مومنہ کے پاس چلی گئی۔ہم عمرہ کی سعادت سے واپسی پر جس روز نوید بھائی سے علیزہ بیٹی کی تعزیت کے لئے پہنچے تو اتفاق سے وہی دن تھا جب ہماری لخت جگر ہم سے جدا ہوئی تھی۔ہماری بیٹی کی برسی کامہینہ ہے یہ ماہ جون۔نوید بھائی سے مل کر زخم تازہ ہو گئے۔ جو تن لاگے سو تن جانے۔ انا للّٰہ و انا علیہ راجعون۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارک ہے “صبر کی توفیق مصیبت کے برابر ملتی ہے۔ اور جس نے اپنی مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارا اس کا کیا دھرا اکارت گیا”۔ انسان جب عظیم ترین صدمہ سے دوچار ہو اور اس قیامت کی گھڑی اسے صبر نصیب ہو جائے تو اس میں انسان کا کمال نہیں بلکہ خالق حقیقی کا کرم ہے کہ اس نے بندے کو بروقت سنبھال لیا۔

موقع پر صبر عطا فرما دیا اور اس کی زبان اور عمل سے ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہونے دیا جو خالق کو ناپسند ہو۔ انسان صدمہ میں نیم دیوانہ ہو تا ہے۔ بڑے مضبوط اعصاب کے مالک مرد بھی ہوش و ہواس کھو دیتے ہیں۔ وہ عظیم ترین صدمہ کیا ہو سکتا ہے ؟ والدین کی وفات ؟ بہن بھائی کا انتقال ؟ بیوی یا شوہر کی موت ؟ بلا شبہ ہر رشتہ عزیز ترین ہے۔ ناگہانی موت ہو یا بڑھاپے کی موت۔ زندگی کا طویل ساتھ چھٹ جانا عظیم صدمہ ہے۔ لیکن عظیم ترین صدمہ اولاد کی میت اٹھانا ہے۔ پھر نہ باپ میں وہ توانائی باقی رہتی ہے اور نہ ماں میں زندگی رہتی ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے نہ والدین کو آزمائش فرمایا نہ بہن بھائی یا شوہر اور بیوی کو آزمائش قرار دیا۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے اولاد کو آزمائش فرمایا۔ مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا۔ مال بھی اولاد کے لئے جمع کیا جاتا ہے اور خرچ بھی اولاد پر کیا جاتا ہے۔ مال چلا جائے تو بندہ مرتا نہیں کہ مال آنی جانی شے ہے لیکن اولاد چلی جائے تو بندہ نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔ اپنا آپ بیچ کر بھی اس نقصان کی وصولی ممکن نہیں۔ کربناک اذیتناک المناک آزمائش بیٹی یا بیٹے کی موت کی خبر ہے۔ اس خبر پر فوری صبر اللہ سبحان تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ ورنہ وقت کے ساتھ صبر آ ہی جاتا ہے اور صبر کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔ مجھے وہ سب نام اور چہرے آج بھی یاد ہیں

جو میری زندگی کے عظیم ترین صدمہ میری لخت جگر مومنہ چیمہ میں میرے ساتھ تھے اور وہ سب نام اور چہرے بھی یاد ہیں جو اس قیامت پر دو جملے لکھنے یا بولنے سے محروم کر دیئے گئے۔ جی محروم کر دیئے گئے۔ اللہ سبحان تعالیٰ جب کسی انسان سے ناراض ہوتا ہے تو اسے اپنی مخلوق کے دکھ بانٹنے سے محروم کر دیتا ہے۔ صدمہ اور مصیبت کے وقت بے اعتنائی برتنے والے چہرے انسان نہ بھول سکتا ہے اور نہ در گزر کر سکتا ہے۔ 10 جون کو بیٹی کے لحد پر گلاب کی پتیاں سنوارتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حد یاد آئی۔ بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔آپ نے فرمایا : جو آنسو آ نکھوں سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے ہوتا ہے۔ دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں شریک تھے۔ غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر جب زید بن حارثہ مدینہ شریف پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے۔ آپ واپس تشریف لائے اور سیدھا جنت البقیع میں قبر رقیہ پر تشریف لے گئے اور بیٹی کی جدائی میں آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی

وفات کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دفن کے موقع پرقبر کے پاس تشریف فر ما تھے۔ میں نے دیکھا کہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے فرط غم سے آنسو جاری تھے۔ تین جوان بیٹیوں کے انتقال پر ملال پر آقا کا رو دینا۔آقا باپ بھی تو تھے کیوں نہ رو دیتے۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی کرم ہے کہ مجھ نا چیز اور کمزور ماں کو بروقت صبر کی دولت عطا فرما دی گئی۔ پچیس سالہ تندرست خوب سیرت، خوب صورت، قابل، ذہین جوان بیٹی کی دنیا فانی سے کوچ کر جانے کی ناگہانی اطلاع ملی۔ 9 اور 10 جون 2011 کی نصف شب دو پولیس اہلکار ہمارے گھر آئے۔ مومنہ بیٹی کا بٹوہ میز پر رکھا اور بڑی دھیمی آواز میں ماں باپ کو انگریزی میں ایک جملہ کہا جس کو کان سننے کے باوجود بہرے ہو گئے۔ ممتا کی ٹانگوں میں جان نہ رہی اور زمین پر گر گئی۔ لیکن کچھ ہی لمحوں میں ایسا محسوس ہوا جیسے دل و دماغ بند کر دیا گیا ہو۔انسان کا ریموٹ کنٹرول خالق کے ہاتھ میں ہے۔ بندے پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنی اس کی برداشت ہو۔ کوئی اس ماں سے پوچھے جو دروازے کی جانب ٹکٹکی باندھے آج بھی بیٹی کی آمد کی منتظر ہے۔ جھلی بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے۔جو تن لاگے سو تن جانے کہ جدائی سے بڑا زخم کوئی نہیں۔۔۔ ابھی جام عمر بھرا نہ تھا کہ دست ساقی چھلک پڑا ،رہیں دل میں دل کی حسرتیں کہ نشاں قضا نے مٹا دئیے۔(ش س م)