عمران خان کا اب تک کی لوٹ مار پر تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ : اگر اس کمیشن نے کامیابی سے اپنی تحقیقات مکمل کر لیں تو نتیجہ کیا نکلے گا ؟ آپ بھی جانیے

" >

لاہور (ویب ڈیسک) جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں سے کوئی یہ پوچھے کہ ہزاروں اربوں ڈالر کا قرضہ کون اتارے گا، قسطیں کیسے ادا کی جائیں گی، یہ قرضہ لیا کیوں گیا تھا، اگر قرض لیا بھی گیا تو کیا عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری آئی، مہنگائی کم ہوئی، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کوئی ان سے پوچھے کہ چوبیس ہزار ارب کا قرضہ کیوں لیا گیا، یہ پیسے کہاں خرچ ہوئے، کیا اس قرض کی ضرورت تھی، کیا یہ پیسے عوام کی فلاح پر خرچ ہوئے؟؟ عمران خان کو قرضوں میں جکڑا اور بیماریوں میں مبتلا پاکستان ملا ہے، وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنا چاہتے ہیں، وہ بیماریوں کا علاج کرنا چاہتے ہیں، اسی مقصد کے تحت انہوں نے تحقیقاتی کمشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کمشن سے بھی جے آئی ٹی کی طرح بڑے انکشافات ہونگے اور عوام کو حقیقیت جاننے کا موقع ملے گا۔ تصویر کا دوسرا رخ سامنے آئے گا۔ کس نے قرض لیا، کتنا قرض کیا، کہاں خرچ ہوا، کیسے خرچ ہوا یہ جاننا عوام کا حق ہے اور اس کمشن کے ذریعے عوام کو ان کا یہ حق دیا جائے گا۔ اہم معلومات ان تک پہنچائی جائیں گی۔ اقامہ اور پانامہ کے ملزم کب تک جرائم سے انکار کرتے رہیں گے، کب تک عوام سے غلط بیانی کرتے رہیں گے۔ کب تک جھوٹ چھپاتے رہیں گے، یہ عدالتوں سے مجرم ثابت ہوئے ہیں عوامی عدالت بھی ان کے مجرم ہونے پر مہر ثبت کرے گی۔ یہ قوم کے مجرم ہیں، ضمیر کے مجرم ہیں، نسلوں کے مجرم ہیں۔ انہوں نے ذاتی کاروبار کیے ہیں وزیراعظم عمران خان کا اس مافیا کے خلاف سختی سے ڈٹے رہنا انکے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ عمران خان عہدے اور اختیار سے کبھی مالی فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔

وہ ملک کے مسائل ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ زندگی نے وفا کی، قسمت نے ساتھ دیا، عوامی حمایت جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو لوٹنے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ قارئین کرام موجودہ حالات میں حکومت کی ذمہ داریوں میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔ ملک کو تاریخ کے بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔ یہ مسائل اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی، تباہ حال معیشت ہے، سیاسی استحکام ہے، مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان ہے، عالمی طاقتوں کی شرارتیں ہیں، ملک کی بڑی سیاسی شخصیات پر قائم مقدمات ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت کو اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ انصاف اور میرٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے لیکن جو سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں ملک کو نقصان پہنچانے والے کام کرے اسے معاف بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔ جہاں حکومت لٹیروں کے خلاف سختی سے کام کر رہی ہے اسی عزم، جوش و جذبے لگن اور مناسب حکمت عملی کے تحت ہر قسم کے حالات میں عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ عمران خان نے ملکی سیاست میں قدم ملک و قوم کی خدمت اور ان کی بہتری کے لیے رکھا ہے۔ انہیں بائیس برس کی طویل جدوجہد کے بعد وزارت عظمی نصیب ہوئی ہے۔ ان کا مقابلہ طاقتور سرمایہ کاروں، جاگیر داروں، صنعت کاروں، نظر آنے والے اور نظر نہ آنیوالے دشمنوں سے ہے۔ اس جنگ میں عمران خان کی طاقت پاکستانی عوام ہیں۔ عوامی حمایت سے وہ ایوان وزیر اعظم پہنچے ہیں اور عوامی حمایت سے ہی وہ ملک کو لوٹنے والوں سے بدلہ لیں گے۔پاکستان ترقی کرے گا، آگے بڑھے گا، کرپشن ختم ہو گی، انصاف کا بول بالا ہو گا ہم اور آپ وہ حقیقی پاکستان دیکھیں گے۔(ش س م)