اسے کہتے ہیں انصاف:خاتون کو تقریب میں ‘دبوچنے’ والے برطانوی وزیر کے ساتھ اب کیا سلوک ہوگا؟

" >

لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ میں جہاں ان دنوں نئے وزیر اعظم کے سیاسی کشمش دیکھی جا رہی ہے، وہیں ایک سیاسی جماعت کے اجلاس کے دوران سینیئر سیاسی رہنما کی جانب سے ایک خاتون کے ساتھ بدتمیزی کیے جانے کے واقعے نے سب کو حیران کردیا۔برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور ٹوری جماعت

سے تعلق رکھنے والے مملکتی وزیر خارجہ مارک کرسٹوفر فیلڈ کی جانب سے ایک خاتون کو لوگوں سے بھرے ہال دبوچنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہف پوسٹ کے مطابق مارک فیلڈ کی جانب سے خاتون کو گردن اور چھاتی کے درمیان دبوچنے اور انہیں پیچھے دھکیل کر آگے بڑھنے سے روکنے کا واقعہ 20 جون کو پیش آیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مینشن ہاؤس میں منعقد تقریب کے دوران چانسلر فلپ ہیمنڈ خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب کو ٹی وی پر براہ راست دکھایا جا رہا تھا۔فلپ ہمنڈ کی تقریر کے دوران کلائمٹ چینج کے حوالے سے کام کرنے والی سماجی تنظیم ’گرین پیس‘ کی خواتین تقریب ہال میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے داخل ہوئیں۔ویڈیو میں گرین پیس کی رکن خواتین کو سرخ لباس میں ’کلائمٹ ایمرجنسی‘ کی پٹی کے ساتھ ملبوس دیکھا جا سکتا ہے۔نجی تنظیم کی خواتین نے تقریب میں کوئی نعرہ بلند کیے بغیر اسٹیج پر پہنچنے کی کوشش کی اور کلائمٹ ایمرجنسی نافذ کرنے کے حوالے سے اپنا احتجاج ریکارڈک کروانا چاہا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹوری جماعت کے رکن اسمبلی مارک فیلڈ سرخ لباس میں ملبوس ایک خاتون کو اسٹیج کی جانب بڑھنے سے روکتے ہوئے انہیں گردن اور چھاتی کے درمیان ’دبوچتے‘ ہوئے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینیئر سیاستدان اس قدر زور سے خاتون کو ’دبوچ‘ کر پیچھے کر ہے ہیں کہ خاتون دیوار کے ساتھ لگ جاتی ہیں۔ویڈیو سامنے آنے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کئی برطانوی سیاستدانوں نے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔